تحریر۔مہر افروز
آٹھ مارچ کا دن ساری دنیا میں عالمی یوم خواتین کے نام سے منایاجاتا ہے۔ عام طور پر سارے یوروپی ممالک میں جس طرح’’یوم مادر‘‘ اور ویلنٹائین ڈے‘‘وغیرہ منایاجاتا ہے۔ اُسی طرح یوم خواتین بھی عورتوں کے ساتھ احترام، عزت اورمحبت کے جذبۂ اظہار کے طور پر منایاجاتا ہے۔ تاکہ خواتین کی محنت ، عظمت ،الفت،خدمت اور جذبۂ ایثار کو سلام کیاجائے۔ اصلاً اسکی ابتداء روس میں ہوئی، جہاں مزدور عورتوں کے احترام میں یہ دن منایاجاتا تھا۔ اسکی ابتداء کی کہانیوں میں بڑا تنازع ہے۔ پہلی مرتبہ 1903 میں اسے منائے جانے کے ثبوت ملتے ہیں۔ اسے شروع کرنے کا سہرا لوئیس زیسٹس کے سرجاتا ہے۔ جنہوں نے پہلی بار ’’عالمی سوشیلسٹ کانفرنس‘‘ کوپن ہیگن میں یوم خاتون منانے کا اعلان کیا۔ اور وہ خاتون کلارا زیٹنکن تھی۔ جسکے نام سے یہ دن1911کو عالمی سطح پر منایاگیا۔ اُس دن ، آسٹریا، دینمارک جرمنی، سوئیزرلینڈ،میں ہزاروں عورتیں سڑکوں پر اُتر آئیں اور اپنے لئے حق اتنخاب (ووٹنگ) کی مانگ کی۔
1913میں روس میں فروری کے آخری ہفتے میں یہ پہلی بار ملکی سطح پر منایا گیا۔ اگلے سال یعنی1914میں یہ تقریب 8مارچ کو منائی گئی جو کہ اتفاقاً اتوار کا دن تھا اور یہ تقریب کا رخانوں میں کام کرنے والی مزدور عورتوں کے لئے مختص تھی۔ 1980کے دہائی میں محقق رینی کوٹ نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ 8مارچ ہی اصلاً یوم خواتین ہے۔ جوکہ امریکہ کے شہر نیویارک میں کپڑے کی ملوں میں کام کرنے والی خواتین نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف، کارخانوں میں کام بند کردیا تھا اور بغاوت کی تھی۔ اسی دن کی یاد میں یوم خواتین 8مارچ کو ہی منایاجاتا ہے۔ روس میں اسکی ابتداء 1913سے بتائی جاتی ہے۔ اسے تقویت 1917کے انقلاب روس سے ملی جہاں پر8مارچ کو ہی دن نکولس زار کی حکومت کو ختم کرنے کے عورتیں غذا کی قلت کا نعرہ لے کر سڑکوں پر اُتریں اور کارخانوں کا کام بند کردیا۔ نکولس زار کی حکومت کے خاتمے کے بعد بالشوک الگزینڈ نے ولڈامیر لنن سے اصرار کیا کہ یہ دن روس میں عام تعطیل کے طور پر منایاجائے۔ ہندوستان اور پاکستان نے1984کے حقوق انسانی کے چارٹر پر دستخط کرنے کے بعد اس اس دن کو منانا اپنے اوپر لازمی کرلیا۔ جسکے لئے اقوام متحدہ اُنکو فنڈز فراہم کرتی ہے۔
فی الوقت بین الاقوامی سطح پر جہاں عام تعطیل کے ساتھ اس دن کو بڑے جوش و خروش سے منانے والے ممالک حسب ذیل ہیں۔ افغانستان، انگولہ ، برلینا، کمبوڈیا، چین (صرف عورتوں کی تعطیل)‘‘ کیوبا، جارجیا، جیونا، بسائیو، ایری ٹیریا، میکوڈونیا۔ مالڈوا مونگولیا، نیپال (صرف خواتین کی تعطیل) ، روس، تجاکستان، ترکمانستان یوگانآ، یوکرین، اُذ بیکستان، ویت نام اور زامبیا ہیں۔ امریکہ میں یہ دن17ایپریل کو عام تعطیل کے طور پر ’’یوم حُسن ومادر‘‘ کے نام سے منایاجاتا ہے۔ چند جگہوں پریہ پرپل ڈے (جامنی رنگ) خواتین پرپل فینہ باندھ کر یہ دن مناتی ہیں۔ پرتگال میں صرف عورتیں ہی یہ دن پارٹیاں منا کر اور عشائیہ (dinner) کھا کر مناتی ہیں۔ جہاں پر کوئی بھی مرد نہیں ہوتا۔
1975سے مخصوص اس دن کو منانے کے لئے اقوام متحدہ برصغیر کے ممالک کو فنڈز فراہم کرتی ہے۔ 2005سے برطانیہ میں عام تعطیل کے طور پر یہ دن منایاجاتا ہے اور نسوانی میک اپ، خوشبو ئیں اور مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Auroraسارے ملک میں ان تقریبات کا اہتمام کرواتی ہے۔ ’’تائیوان میں یہ دن یوم بیداری برائے صحت نسواں‘‘ کے طور پر منایاجاتا ہے چند ایک مقامات پر یہ دن ’’یوم مخالفت مرد‘‘ کے طور پر بھی منایاجاتا ہے ہر تقریب سے مردوں کو دور رکھاجاتا ہے اور دل کھول اُنکے خلاف زہر اگلا جاتا ہے۔
آئیے دیکھیں، نئی صدی سے اقوام متحدہ کے یوم خواتین کے لئے کیا عزائم ، نصب العین اور عنوانات رہے ہیں۔
1۔ 1996 ماضی کا جشن اور مستقبل کا منصوبہ
2۔ 1997 عالمی امن اور خواتین
3۔ 1998 انسانی حقوق اور خواتین
4۔ 1999 خواتین کا تحفظ ، خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ
5۔ 2000 عالمی امن کے لئے خواتین کا اجتماع
6۔ 2001 خواتین اور عالمی امن ، حالات سے جو جتنی خواتین
7۔ 2002 افغانی خواتین اور حقائق اور مواقع۔
(افغانستان کی دھجیاں بکھیر کر، اجتماعی عصمت دری امریکی فوج کی جانب سے، پوری بربریت کے بعد اس کا اعلان ہوا)
8۔ 2003 صنفی یکسانیت ، صدی کے مقاصد کے مقاصداور نصب العین
9۔ 2004 خواتین اور ایڈز
10۔ 2005 یکسانیت مردوزن 2005کے بعد عورتوں کا محفوظ مستقبل
11۔ 2006 دنیا کے اہم فیصلوں میں خواتین کا کردار
12۔ 2007 خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ
13۔ 2008 خواتین اور لڑکیوں کے لئے صرفہ اقوام متحدہ کا ایجنڈا۔
14۔ 2009 عورتوں اور لڑکیوں کے تشدد کے خلاف مرد و زن کا ملن
15۔ 2010 یکسان حقوق یکساں مواقع تمام کی ترقی و بہبود کے لئے
16۔ 2011 یکساں مواقع تعلیم و ملازمت برائے خواتین
17۔ 2012 دیہی عورتوں کی تقویت، خود کفیل !غریبی اور بھوک کا خاتمہ
18۔ 2013 وعدہ وعدہ ہے عمل کا وقت ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کو ختم کردیاجائے۔
19۔ 2014 خواتین کے لئے یکساں مواقع سب کی ترقی کا ضامن ہیں۔
20۔ 2017 کا سال عالمی یوم خوتین کی صدی منانے کا اعلان اقوام متحدہ نے ابھی کردیا ہے جسکا عنوان ہے۔
To shake women in ukrain, making them socially achive to organise in 2017 women’s revelution “globle women strike including sex workers”
2017 کے عالمی یوم خواتین کی صد سالہ جشن میں یوکرین ہی کیوں؟ یہ سوال سوچنے اور غور کرنے کے قابل ہے۔
موجودہ یوکرین کے سیاسی پیش منظر میں جو صدیوں سے نہ روس کی سوشلزم سے جھکا نہ امریکہ اقتصادی نظرئیے نے اسکی کمر توڑی، گوری نسل کا واحد ملک ہے۔ جواب بھی قرآن، سنت اور شریعت کو مضبوطی سے پکڑے کھڑا ہے۔ یہ قوم اور یہ اسلامی عقیدوں کو سینے سے لگائے کھڑا ملک 2017تک ختم کردیا جائیگا۔؟ اور یوکرینی خواتین کی عصمتوں کی دھجیاں اُڑا کر لامذہبی، مہیونیت کے یپروکار اقوام عالمی یوم خواتین کا صد سالہ جشن منائیں گی؟آئیے ذرا دیکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ٹھیکیداران ممالک جنکو حقوق انسانی اور عورتوں کو یکساں مقام عطا کرنے کا دعویٰ ہے اُن ممالک میں عورت کا حال زار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی تناظر میں عورتوں کے خلاف ہونے والے تشد د کے اعداد و شمار دنیا کی کل آبادی کا35% ہیں۔ 35%فی صد خواتین کوگھر اور باہر تشدد کا سامنا ہے۔ اور قومی سطح یعنی ہندوستان میں اسکی تعداد دوگنا یعنی 70%ہے۔ آسٹریلیا، کینڈا، اسرائیل، جنوبی آفریقہ اور امریکہ میں گھریلو تشدد کا شکار خواتین 40%اور70%کے درمیان ہیں۔عالمی سطح پر64ملین لڑکیاں 18سال سے کم عمر میں بیاہی جاتی ہیں۔ جسکا 20%حصّہ کم عمر میں حاملہ ہونے اور اینیما (خون کی کمی) کے سبب مرجاتی ہیں۔ جنوبی اشیاء میں شادی کی عمر20 سے 24سال کے اندر ہے اور کل آبادی کا41%فی صدی زبردستی کی شادیوں کا شکار ہیں۔عالمی سطح پر140ملین لڑکیاں اور عورتیں جنسی تشدد کا شکار ہیں۔55%فی صد لڑکیاں اور خواتین جوکہ دُنیا کی کل نسوانی آبادی کا29.9%ہے جنسی تجارت، جدید غلامی اور گھریلو کام کاج کے لئے بیچی اور خریدی جاتی ہیں۔ جسکا 98%جنسی تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں۔عورتوں کی عصمت دری، فاتح قوم کی جنگی منصوبہ بندی کا حصہ بن چکی ہیں۔ 1992-95کے درمیان بوسنیا میں20,000اور ہرزرے گوئنا میں50,000عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان میں کثیر تعداد مسلمان عورتوں کی تھی۔ 1994کےGenocideمیں رواندان میں50,000عورتیں عصمت دری کے بعد قتل کردی گئیں۔40%سے70%عورتیں دی گریٹ برٹن(برطانیہ) میں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں جب وہ اپنی ملازمت پر ہوتی ہیں۔ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ میں83%لڑکیاں 12سے 16سال کی عمر میں اپنی عصمت گنوا بیٹھتی ہیں۔ خود براک اور باما کی زبانی ’’ملازمتی وقفے کے دوران ہر تیسری عورت جنسی استحصال کا شکار ہے۔خود بارک اور باما اور اُنکے سابقہ صدر پر اپنی سیکرٹرئیوں کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔ شہری عورتوں کا استحصال دیہی عورتوں کے مقابل دوگنا ہے۔ یا شاید اسلئے بھی ہو کہ یہاں رپورٹ درج کرائی جاتی ہے۔ جبکہ دیہات میں مظلوم عورتوں کی خاموشی سب کچھ دبالیتی ہے۔ 2010کے ایک سروے کے مطابق دہلی میں66%خواتین اپنی ملازمت کے 11سال کے عرصے کے دوران 5سے 6مرتبہ جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ عورتیں دوگنی تعداد میں مردوں کے مقابلHIVAIDSکا شکار ہیں۔ امریکہ کی کل آبادی کا11.8%لڑکیاں جنکی عمر20سال سے بھی کم ہے HIV AIDSکا شکار ہیں۔
اس طر ح کے صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافت ممالک کا بھی یہی حال ہے۔سالانہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ میں58%عورتیں اپنے مرد پارٹنر کے تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ آسٹریلیا میں13.6%لڑکیاں اور عورتیں جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ یہ تمام اعدادو شمار خود کو نوبل اور جنٹل مین کہنے والے ممالک کے ہیں۔ جبکہ فی الوقت یوٹیوب پر چلنے والے ایک ویڈیو میں یہ مسلسل دکھایا جاتا ہے کہ ’’قرآن کے اُترنے کے بعد سے عرب ممالک اور مسلم ممالک میں عورتوں پر تشدد بڑھ گیا ہے‘‘۔ یہ پوری ہیڈلائینیس(سرخیاں) چلتی رہتی ہیں اور اُسکے ساتھ ایک ادھ ننگی گلوکارہ گاتی رہتی ہیں جو جانے کتنی بار جنسی استحصال کا شکار ہوچکی ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد میں جنوبی ایشیاء کے ممالک ، ہندوستان بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال برما اور پاکستان کسی سے بھی کم نہیں ہیں۔
عورت ہر جگہ پامال ہے کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں مرد کے ظلم کے تحت۔
خلیجی ممالک عورتوں کی خریدو فروخت میں سب سے آگے ہیں۔
عورتوں پر ہونے والے تشدد کی وجوہات پر غور کریں تو یہ اسباب سمجھ میں آتے ہیں۔
1۔ عورتوں کا گھروں سے باہر ملازمت کے لئے نکلنا اور معاشی خود کفیل ہونے کے لئے کوشش کرنا۔
2۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں اُنکا فیشن، لباس اور رہن سہن اختیار کرنا۔
3۔ خود عورت کا گھروں سے باہر نکلنا اور آوارہ ہوجانا۔
4۔ مردوں کی بڑھتی ہوس اور یہ احساس کم تری کہ کیا عورت میرے مقابل بہتر ہو رہی ہے اور مرد کی بڑھتی حسد کی مکروہ شکل۔
5۔ جہیز ، لین دین کی قباحت نے عورتوں اور لڑکیوں کی پیدائش کو بوجھ بنادیا ہے۔
6۔ والدین کا لڑکی کے تئیں دو غلہ رویہ کہ یہ شادی کے بعد دوسرے گھر جائیگی اور ہمارے کسی کام کی نہیں۔
7۔ کیا اقوام متحدہ کے عالمی یوم خواتین کے عنوان کا اعلان بذات خود ایک خفیہ ایجنڈا ہے۔ (پوشیدہ پیغام ہے)
’’لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘
کیا وہ زمانہ پھر آئیگا؟
کہ تین مرتبہ کی بیوہ کو حق زوجیت دے کر احترام دیاجائیگا۔ اور اُسکی تجارت پوری دیانت داری سے سنبھالی جائیگی۔ چار بیٹیوں کی پیدائش کو زحمت نہیں رحمت کہاجائیگا؟دو بیٹیوں کی پیدائش اور پرورش کرنے والے بات کو اپنے جنتی ہونے کی سند پر یقین ہوگا؟ کیا کسی کثیر العیال ، طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کو دوبارہ زوجیت کا حق اور مرد کی شفیق سائیبانی ملے گی ۔ حضرت ماریہؓ جیسی شہزادی جوکہ جنگلی غلام تھی، کو یہ حوصلہ ملے گا کہ وہ باپ کی حکمرانی کوٹھکرا کر حضورؐ کی زوجیت و غلامی کو ترجیح دے۔کیا ابوسلمہؓ جیسا کوئی شخص یہ پیش گوئی کرے گا کہ’’ تمہیں میرے بعد بہتر شوہر ملے‘‘ کیا کوئی خلیفہؓ اپنے پہلے خلیفہؓ کی بیوہ سے محض اسلئے نکاح کرے کہ اُسکا سابقہ شوہر حضورؐ سے زیادہ قریب تھا، اور شاید علم میں مجھ سے بہتر تھا۔ کیا کوئی بیوہ کسی بہتر شوہر کو خواب دیکھنے کا حوصلہ کر سکے گی؟کیا کوئی طلاق یافتہ یہ خوش فہمی رکھے گی کہ وہ دوسرے نکاح آسانی سے کر سکتی ہے۔
کیا وہ زمانہ پر آئیگا۔ کیا ان تمام حقائق کو جانتے ہوئے ہمیں عالمی یوم خواتین کو منانے کی ضرورت ہے؟ مسلمان قوم کے مرد و زن ہم ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزم ہیں ایک دوسرے کے کبھی مخالف نہیں ہیں تو آؤ دونوں ملکر یہ عہد کریں کہ اہم اپنے دائیرے میں رہ کر ایک بہتر سماج کی تشکیل کے لئے ا ﷲ کے نام پر حضورؐ کی شریعت اور سنت کے مطابق محنت اور عمل کریں۔
مہرافروز
’’الرحمٰن‘‘
فیز کے۔ ایج۔بی۔ کالونی۔ ڈی۔ین کوپّ دھارواڑ
580 008 (کرناٹک انڈیا۔