hudaadmin1

/meharafroz kathiawari
­

About meharafroz kathiawari

This author has not yet filled in any details.
So far meharafroz kathiawari has created 2 blog entries.

Dahashat_Gard (Terrorist)

مہر افروز اُس کےپیروں کی بیڑیوں کی کھنکھناہٹ بڑی ڈراونی تھی۔ امتحان ہال کے تمام دروبام پرگونجتی آوازیں اور ہال میں موجود آنکھیں بیک وقت اُسکی طرف اُٹھیں۔خوف! دہشت ! تعجب ! ترحم!حقارت ! غصّہ ! حسرت! سوال! کیا نہ تھا؟ ہر آنکھ کا جذبہ الگ! ہاں سب وہی تھے۔ اُسکے اپنے ساتھی! چار سال پہلے والے ! جن کے ساتھ وہ پڑھا کرتا ایم۔بی۔بی۔ایس کے پہلے سال میں! صوبے میں اوّل آنے والا لڑکا ،جس کا میڈیکل رینک نمبرایک تھا۔ اور جس نے اپنے شہر کے میڈیکل کالج کی پہلی سیٹ پہلے دن پہلی گھڑی میں لیا تھا۔ میڈیکل ایڈمیشن کاؤنسلنگ سیل میں موجود ہجوم کی ہر آنکھ میں تحسین ! احترام!فخر! مبارکباد! خوشی ! اور نہ جانے کیا کیا تھا۔ اُس نے کمپیوٹر کا بٹن دبا کر خود کو بلندیوں پر پہنچادیا۔ ! وہ وہاں جاکر اپنے رب کے سامنے جھک گیا اور کہا شکر الحمد اﷲ پہلا سال اُس نے کالج میں ٹاپ کیا! دوسرے سال وہ اپنی ریاست بھر میں ٹاپ پر تھا! تیسرا سال ، پہلا سمسٹر اُس کی توجہ ہٹ گئی میں کون ہوں؟میں کیا ہوں! میرا وجود کیا ہے! کیا میں اسی لئے بنایا گیا ہوں! کہ کمندوں پر کمندیں ڈالوں اور ریکارڈ توڑوں؟ یہ سوال اُسے پریشان کرنے لگے۔ مظلوموں کی آہیں اُسے بے چین کرنے لگیں۔ اُس نے ایک اجتماع میں شرکت کرلی۔ ڈھیر ساری مذہبی کتابیں لے آیا۔ اُس نے شرعی وضع قطع رکھ لی۔ لباس بدل گیا۔ اور پیشانی پر سیاہ گٹھے نمودار ہوئے۔ چوتھے سال کے دوسرے سمسٹر میں قدم رکھتے ہی اُسے گرفتار کر لیا گیا کیونکہ میڈیکل ڈین کے بیٹے کو اوّل لانا تھا۔ اُسکی مذہبی کتابیں دہشت گردی کے نام پر ضبط کر لی گئیں۔ آج وہ اپنا فائنل ایگزام [...]

Iqbal’s Poem

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہہ سائی سے تو سنگ آستانِ کعبہ جا ملتا جبینوں میں کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے تو نے اے مجنوں کہ لیلی کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے کہ جن کو ڈوبنا ہو ، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی الہی! کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ، ارادت ہو تو دیکھ ان کو ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں ترستی ہے نگاہ نا رسا جس کے نظارے کو وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمن دل کو کہ خورشید قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں پھڑک اٹھا کوئی تیری ادائے 'ما عرفنا' پر ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال [...]