Videos

­

Basavaraj Betageri

ಧಾರವಾಡದಲ್ಲಿ 25-11-2014 ರಂದು ಜರುಗಿದ ವಾಯವ್ಯ ಕರ್ನಾಟಕ ವಲಯದ 59 ತಾಲೂಕುಗಳ ಬಿಇಓ ಹಾಗೂ ಇತರೇ ಸಿಬ್ಬಂದಿಯ ಸಭೆಯ ಸುದ್ದಿ-ಚಿತ್ರ

One day work shop for bringing out of school children,back to school

One day work shop for bringing out of school children,back to school,conducted by Hudafoundation in colaboration with Dept of public instruction D D P I's office Dharwad at Anjuman Islam premises on 30th june 2014.  

Sham e ghazal by Karnataka Urdu Accadamy

Sham e ghazal was organised by karnataka urdu acadamy in the month of august at Dharwad Anil Thakkar.Dr.Fouziya Chaudhary chairman K U A and others are seen in the photographs  

One day Dharwad District Educational conferrence at Diet Dharwad

Dharwad Commissioner of public instuction has conducted a day's Educational conferrence at Dharwad Diet on 27th oct 2014,to improve Quality of education in Dharwad district,on the occassion he spoke about the measures to improve the quality of education which is worstening due to irresponsible behavior  of the teachers of supervisory team.so we need to improve the supervision norms and and the behavior of the supervisors towards the teachers. On the ocassion D D P I of public instruction Dharwad spoke to improve the morality and values among the teachers and the fecilitators. Mrs Afroz. M .kathiawari. Fecilitited the audience with the five years project of British Council,trainings impliments  and how to do the follow up work with sufficient online presentation at the projector. Nalikali project and teaching of mathematics and sciences to 5th std students in an impressive way was discussed by Mrs Aparna Patil. C.C.E.implements were discussed by Mrs Sujata M Mullur on the ocassion. Mr Yargambali math anchored and thanked the occassion. The conferrence was presided by Diet principal Shri Gangayya A and He summed up the whole days efforts.

عالمی یوم خواتین:نظریہ کی تبدیلی کے ساتھ احساس ذمہ داری

تحریر۔مہر افروز آٹھ مارچ کا دن ساری دنیا میں عالمی یوم خواتین کے نام سے منایاجاتا ہے۔ عام طور پر سارے یوروپی ممالک میں جس طرح’’یوم مادر‘‘ اور ویلنٹائین ڈے‘‘وغیرہ منایاجاتا ہے۔ اُسی طرح یوم خواتین بھی عورتوں کے ساتھ احترام، عزت اورمحبت کے جذبۂ اظہار کے طور پر منایاجاتا ہے۔ تاکہ خواتین کی محنت ، عظمت ،الفت،خدمت اور جذبۂ ایثار کو سلام کیاجائے۔ اصلاً اسکی ابتداء روس میں ہوئی، جہاں مزدور عورتوں کے احترام میں یہ دن منایاجاتا تھا۔ اسکی ابتداء کی کہانیوں میں بڑا تنازع ہے۔ پہلی مرتبہ 1903 میں اسے منائے جانے کے ثبوت ملتے ہیں۔ اسے شروع کرنے کا سہرا لوئیس زیسٹس کے سرجاتا ہے۔ جنہوں نے پہلی بار ’’عالمی سوشیلسٹ کانفرنس‘‘ کوپن ہیگن میں یوم خاتون منانے کا اعلان کیا۔ اور وہ خاتون کلارا زیٹنکن تھی۔ جسکے نام سے یہ دن1911کو عالمی سطح پر منایاگیا۔ اُس دن ، آسٹریا، دینمارک جرمنی، سوئیزرلینڈ،میں ہزاروں عورتیں سڑکوں پر اُتر آئیں اور اپنے لئے حق اتنخاب (ووٹنگ) کی مانگ کی۔ 1913میں روس میں فروری کے آخری ہفتے میں یہ پہلی بار ملکی سطح پر منایا گیا۔ اگلے سال یعنی1914میں یہ تقریب 8مارچ کو منائی گئی جو کہ اتفاقاً اتوار کا دن تھا اور یہ تقریب کا رخانوں میں کام کرنے والی مزدور عورتوں کے لئے مختص تھی۔ 1980کے دہائی میں محقق رینی کوٹ نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ 8مارچ ہی اصلاً یوم خواتین ہے۔ جوکہ امریکہ کے شہر نیویارک میں کپڑے کی ملوں میں کام کرنے والی خواتین نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف، کارخانوں میں کام بند کردیا تھا اور بغاوت کی تھی۔ اسی دن کی یاد میں یوم خواتین 8مارچ کو ہی منایاجاتا ہے۔ روس میں اسکی ابتداء 1913سے بتائی جاتی ہے۔ اسے تقویت 1917کے انقلاب [...]

Dahashat_Gard (Terrorist)

مہر افروز اُس کےپیروں کی بیڑیوں کی کھنکھناہٹ بڑی ڈراونی تھی۔ امتحان ہال کے تمام دروبام پرگونجتی آوازیں اور ہال میں موجود آنکھیں بیک وقت اُسکی طرف اُٹھیں۔خوف! دہشت ! تعجب ! ترحم!حقارت ! غصّہ ! حسرت! سوال! کیا نہ تھا؟ ہر آنکھ کا جذبہ الگ! ہاں سب وہی تھے۔ اُسکے اپنے ساتھی! چار سال پہلے والے ! جن کے ساتھ وہ پڑھا کرتا ایم۔بی۔بی۔ایس کے پہلے سال میں! صوبے میں اوّل آنے والا لڑکا ،جس کا میڈیکل رینک نمبرایک تھا۔ اور جس نے اپنے شہر کے میڈیکل کالج کی پہلی سیٹ پہلے دن پہلی گھڑی میں لیا تھا۔ میڈیکل ایڈمیشن کاؤنسلنگ سیل میں موجود ہجوم کی ہر آنکھ میں تحسین ! احترام!فخر! مبارکباد! خوشی ! اور نہ جانے کیا کیا تھا۔ اُس نے کمپیوٹر کا بٹن دبا کر خود کو بلندیوں پر پہنچادیا۔ ! وہ وہاں جاکر اپنے رب کے سامنے جھک گیا اور کہا شکر الحمد اﷲ پہلا سال اُس نے کالج میں ٹاپ کیا! دوسرے سال وہ اپنی ریاست بھر میں ٹاپ پر تھا! تیسرا سال ، پہلا سمسٹر اُس کی توجہ ہٹ گئی میں کون ہوں؟میں کیا ہوں! میرا وجود کیا ہے! کیا میں اسی لئے بنایا گیا ہوں! کہ کمندوں پر کمندیں ڈالوں اور ریکارڈ توڑوں؟ یہ سوال اُسے پریشان کرنے لگے۔ مظلوموں کی آہیں اُسے بے چین کرنے لگیں۔ اُس نے ایک اجتماع میں شرکت کرلی۔ ڈھیر ساری مذہبی کتابیں لے آیا۔ اُس نے شرعی وضع قطع رکھ لی۔ لباس بدل گیا۔ اور پیشانی پر سیاہ گٹھے نمودار ہوئے۔ چوتھے سال کے دوسرے سمسٹر میں قدم رکھتے ہی اُسے گرفتار کر لیا گیا کیونکہ میڈیکل ڈین کے بیٹے کو اوّل لانا تھا۔ اُسکی مذہبی کتابیں دہشت گردی کے نام پر ضبط کر لی گئیں۔ آج وہ اپنا فائنل ایگزام [...]

Iqbal’s Poem

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہہ سائی سے تو سنگ آستانِ کعبہ جا ملتا جبینوں میں کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے تو نے اے مجنوں کہ لیلی کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے کہ جن کو ڈوبنا ہو ، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی الہی! کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ، ارادت ہو تو دیکھ ان کو ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں ترستی ہے نگاہ نا رسا جس کے نظارے کو وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمن دل کو کہ خورشید قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں پھڑک اٹھا کوئی تیری ادائے 'ما عرفنا' پر ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال [...]

I welcome You, Oh ! The Month of Moharram

I welcome You, Oh ! The Month of Moharram (With Urdu and French versions) ************************************* With a stream of tears rolling down my eyes, I welcome you, Oh! The month of Moharram. As you change the year of Islamic calendar, You fill the hearts with pain and sorrow; You revive the memory of an unequalled grief, Which offers the hope for a better tomorrow. With a storm of pride rocking my soul, I welcome you, Oh! The month of Moharram. Embedded in your name is the glory of my faith, Hidden in your days are the wails and woes; Lying in your lap is the scale of truth, To draw a line between friends and foes. With an ocean of piety, giving me frenzied thrills, I welcome you, Oh! The month of Moharram. You witnessed the journey of the Prophet’s family, Who faced death, anguish and agony for Allah’s Sake; The eternal verities which they preserved, All the brutal onslaughts have failed to shake. “ Haqeeqate abadee hei muqame Shabbeeree, Badalte rahtey hein andaze Kufiyo Shamee.” (The position of Shabbeer (Hazrat Imam Husain) represents an everlasting reality, Though the ways (of atrocities) of Koofa (Karbala) and Sham( Syria) keep changing.) "Sir Dr. Allama Iqbal” ********************************************** Dr.Mustafa Kamal Sherwani,LL.D. Lucknow, India sherwanimk@yahoo.com +91-9919777909 ************************ Urdu version by Mr. Jawaid Badauni ( Muscut) ZabaN ne meri Moharram khush aamdeed kaha ***************************************** I was terribly impressed by the poem of Dr. M.K.Sherwani and found no better way to express my appreciation than converting his English poem into an Urdu Nazm with utmost care to make a word-to-word translation. More often than not, it is extremely difficult to convert English poem into Urdu Nazm in view of hard rules [...]

Tootati Sarhadein: A short Story

Tootati Sarhadein: A short Story by Afroza.M.Kathiawari.