مہندر سنگھ بیدی سحرؔ
گلشنِ صدق و صفا کا لالۂ رنگیں حسینؑ
شمع عالم، مشعلِ دنیا، چراغِ دیں حسینؑ
سر سے پا تک سرخیٔ افسانۂ خونیں حسینؑ
جس پہ شاہوں کی خوشی قربان وہ غمگیں حسینؑ
مطلع نور مہ و پروین ہے پیشانی تری
باج لیتی ہے ہر اک مذہب سے قربانی تری
جادۂ عالم میں ہے رہبر ترا نقشِ قدم
سایۂ دامن ہے تیرا پرورش گاہِ ارم
بادۂ ہستی کا ہے تعبیر تجھ سے کیف و کم
اُٹھ نہیں سکتا تیرے آگے سرِ لوح و قلم
تو نے بخشی ہے وہ رفعت ایک مشتِ خاک کو
جو بایں سر کردگی حاصل نہیں افلاک کو
 

Courtesy: Bazme Qalam