Articles

­

A Letter of Appreciation from Industrial Extension Officer

ASSALAMU ALAIKUM! TO, DEAR PRESIDENT, ALL OFFICE-BEARERS & MEMBERS OF HUDA FOUNDATION, DHARWAD. IT GIVES ME IMMENSE PLEASURE TO EXPRESS MY HEARTFELT GRATITUDE TO ALL OF YOU FOR HAVING ORGANIZED GRAND COMMEMORATIVE PROGRAM "YOUM-E-IQBAL" IN THE FOUND MEMORY OF THE GREAT VISIONARY & POET OF THE EAST DR SIR IQBAL 0N NOVEMBER 9, 2013 AT ANJUMAN CAMPUS IN DHARWAD.I HAVE BEEN INVITED & ALLOWED BY HUDA FOUNDATION FOR PAPER PRESENTATION ON THE TOPIC, "ALLAMA IQBAL AS THE POET OF THE EAST", I AM & WILL BE VERY THANKFUL TO YOU PEOPLE FOREVER, FOR THIS OPPORTUNITY PROVIDED TO ME. BOTH PAPER PRESENTATION & MUSHAIRA WERE VERY NICE & SUCCESSFUL ONE. I REQUEST YOU TO ORGANISE SUCH PROGRAM ON THE FIRST MARTYR OF INDIAN INDEPENDENCE, TIPU SULTAN ON NEXT YEAR ON HIS MARTYRDOM DAY OR BIRTH ANNIVERSARY. I WISH A VERY SUCCESS TO HUDA FOR EVERY ACTIVITY IT UNDERTAKE. FINALLY, I PRAY TO ALMIGHTY TO MAKE HUDA THE REAL HELPER OF THE SOCIETY. THAKING YOU, AGAIN. FROM, YOURS, JAFAR KHASIM ANSARI' INDUSTRIAL EXTENSION OFFICER, ALAND.585302 DIST: GULBARGA

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف

مرزا رفیع سوداؔ گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی کیا ضد ہے مرے ساتھ، خدا جانئے ورنہ کافی ہے تسلّی کو مرے ایک نظر بھی اے ابر، قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لختِ جگر بھی اے نالہ، صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے پایا نہ تنک دیکھنے تَیں رُوئے اثر بھی کس ہستیٔ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار کچھ اپنے شب و روز کی ہے تجھ کو خبر بھی تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش رہتا ہے سدا چاک، گریبانِ سحر بھی سودا، تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی

واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا

مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی رحمتہ اللہ علیہ واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرا اغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑہ تیرا اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستہ تیرا فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا آسماں خوان، زمیں خوان، زمانہ مہمان صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یاں اسکے خلاف تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا دل عبث خوف سے پتّہ سا اڑا جاتا ہے پلّہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسہ تیرا ایک میں کیا میرے عصیاں کی حقیقت کتنی مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے بھروسہ تیرا تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا تُو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دھلیں کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا تیرے صدقے مجھے اک بوند بہت ہے تیری جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا

Ghazal

Kya Qiyamat Hai: By, Sayyed Aijaz Shaheen.

تا ہاتھ نہ کچھ آسکے حیرت سے زیادہ

تا ہاتھ نہ کچھ آسکے حیرت سے زیادہ پردوں میں ہیں آفاق ضرورت سے زیادہ منظر کی نہیں یہ تو بصارت کی کمی ہے منظر تو ہے موجود بصارت سے زیادہ اک بحر تو ہوتا میری ذخّاری کے قابل اک دشت تو  وسعت میں ہو وحشت سے زیادہ تفہیم کی صورت ہے نہ تعبیر کا امکان مفہوم ہے پا بند عبارت سے زیادہ ائے  اہل  تقرّب! تمہی بتلاؤ کہ ہے کون؟ نزدیک جو دوری میں ہے قربت سے زیادہ اعجازشاہین  

گل از رخت آموختہ نازک بدنی را بدنی را

مولانا عبدالرحمن جامی گل از رخت آموختہ نازک بدنی را بدنی را بلبل ز تو آموختہ شیریں سخنی را سخنی را سخنی را ہر کس کہ لب لعل ترا دیدہ بہ دل گفت حقا کہ چہ خوش کندہ عقیق یمنی را یمنی را یمنی را خیاط ازل دوختہ بر قامت زیبا در قد تو ایں جامئہ سرو چمنی را چمنی را چمنی را در عشق تو دندان شکست است بہ الفت تو جامہ رسانید اویس قرنی را قرنی را قرنی را از جامی بے چارا رسانید سلامے بر در گہہ دربار رسول مدنی را مدنی Courtesy: Sayed Aijaz Shaheen

کون ہے آخر بتا میرا وہ ہوتا کون ہے

رئیس الدین رئیس کون ہے آخر بتا میرا وہ ہوتا کون ہے کشتیاں میری سمندر میں ڈبوتا کون ہے زخم دیتا ہے تو کاری زخم دیتا ہے مجھے ہاں مگر تیزاب سے زخموں کو دھوتاکون ہے کوئی بھی ویراں جزیرے میں نہیں میرے سوا پھر بکھر کر ٹوٹ کر یہ مجھ میں روتا کون ہے خارزاروں ، سنگ زاروں میں بجز میرے بتا ایسی میٹھی اور گہری نیند سوتا کون ہے جلتے صحراہی فقط تعبیر ہوتے ہیں رئیسؔ رات بھر آنکھوں میں تخم خواب بوتا کون ہے Courtesy: Bazme Qalam

ابھی دشت کربلا میں ہے بلند یہ ترانہ

ماہر القادری ابھی دشت کربلا میں ہے بلند یہ ترانہ یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ ترا کام تن کی پوجا ، مرا کام من کی سیوا مجھے جستجو یقیں کی ، تجھے فکر و آب و دانہ مرے شوق مضطرب سے ہے رواں نظام ہستی جو ٹھہر گئی محبت تو ٹھہر گیا زمانہ وہ فقیہ کو باطن ہے عدوئے دین و ملت کسی خوف دنیوی سے جو تراش دے فسانہ ترا خار و خس پہ تکیہ مرا عشق پر بھروسہ مجھے برق سے محبت تجھے خوف آشیانہ مرے جذب دل کو ماہرؔ کوئی کیا سمجھ سکے گا مری شاعری کی حد سے ابھی دور ہے زمانہ

دُعا کے واسطے ہاتھوں کو  جب اُٹھایا تھا

ڈاکٹر سید افتخار شکیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دُعا کے واسطے ہاتھوں کو  جب اُٹھایا تھا تو نام آپ کا ہی  ذہن میں درآیا تھا یہ سارےشعر میرے معتبر  یونہی تو نہیں غزل میں آپ کا پیکر سمیٹ لایا تھا یہ روشنی،یہ اجالا، ہے دم قدم سے ترے وگرنہ پہلے یہاں تو  اندھیرا چھایا تھا کوئی بھی درد کا درماں ہمارے بن نہ سکا کہ زخم رِستے تھے  مرہم تھا نہ اور پھایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  گر مسلسل آپ کو ہم سوچتے رہ جائیں گے زندگی میں واہمے ہی واہمے رہ جائیں گے ڈوبنے والے نظر سے ہو گئے اوجھل تو کیا دیر تک پانی میں لیکن دائرے رہ جائیں گے آپ نے سوچا تو ہوگا آپ کے جانے کے بعد کیسی کیسی اُلجھنیں اور مسئلے رہ جائیں گے آئیے مل بیٹھ کر کوئی سمجھوتہ کریں رنجشیں یونہی رہیں تو فاصلے رہ جائیں گے ایک چہرہ دیکھنے کی آرزو دل میں لئے دیکھتے ہم زندگی بھر آئینہ رہ جائیں گے رائچور، کرناٹک 9448303325 Courtesy: Bazme Qalam

حرفِ سپاس

 جنوبی ہندوستان کے مرکزِ علم دانش دھارواڑ،کرناٹک میں  یومِ اقبال کے سلسلے میں منعقدہ  سیمینار اور مشاعرےکے کامیاب انصرام و انعقاد کے لئے ہدیٰ فاؤنڈیشن دھارواڑ تمام  شرکاء،مہمانان،مقالہ نگاروں،شعرا ء،اور ان کے علاوہ   اپنےمعا ونوں،سرپرستوں، کارکنوں  کا  خلوص دل سےسپاس گزار ہے ۔انشاءاللہ چند دنوں جملہ تقاریب کی کاروائی یو ٹیوب پر آویزاں کر دی جائے گی نیک تمنّاؤں کے ساتھ افروزہ کاٹھیا واڑی کنوینر یومِ اقبال تقاریب،ہدیٰ فاؤنڈیشن دھارواڑ