Articles

­

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا ہر زخمِ جگر داورِ محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا صد موسمِ گُل ہم کو تہِ بال ہی گزرے مقدور نہ دیکھا کبھی بے بال و پری کا اس رنگ سے چمکے ہے پلک پر کہ کہے تو ٹکرا ہے ترا اشک، عقیقِ جگری کا لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا ٹک میر جگرِ سوختہ کی جلد خبر لے کیا یار بھروسہ ہے چراغِ سحری کا میر تقی میر

دگر داناے راز آید کہ ناید؟

سرود رفتہ باز آید کہ ناید؟ نسیمے از حجاز آید کہ ناید؟ سرآمد روزگار این فقیری دگر داناے راز آید کہ ناید؟ اقبال Sayed Aijaz Shaheen

اردو اور روزگار حال محفوظ نہ مستقبل روشن!

سہیل انجم اردو کو روزگار سے جوڑنے کے مسئلے پر خوب باتیں ہوتی ہیں۔ کانفرنسیں بلائی جاتی ہیں، سمینار ہوتے ہیں، مقالے پڑھے جاتے ہیں، سفارشیںاور قراردادیں منظور کی جاتی ہیں اور پھر چند گھنٹوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد اس معاملے کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ گھوم پھر کر پھر وہیں آجاتا ہے جہاں ان ہنگاموں سے قبل تھا۔ روزگار سے اردو کے تعلق کا گراف اوپر اٹھنے کے بجائے مزید نیچے چلا جاتا ہے۔ جنوبی ہند میں صورت حال پھر بھی کچھ غنیمت ہے لیکن شمالی ہند میں جو کہ کبھی اس کا گھر آنگن ہوا کرتا تھا، حالات دن بدن ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اردو کو روزگار سے جوڑنے کی باتیں حکومتی سطح پر بھی کی جاتی ہیں اور غیر حکومتی سطح پر بھی۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ آئیے سردست دہلی میں اردو اور ورزگار کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں جو اردو کا ایک دبستان رہا ہے، ملک کا دارالحکومت بھی ہے اور جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل ہے۔ کسی بھی زبان کو سرکاری درجہ حاصل ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب حکومت کے تمام کام اس زبان میں بھی ہوں گے۔ تمام محکموں میں اس زبان کے آفیسر رکھے جائیں گے۔ بقدر ضرورت مترجمےن کا تقرر ہوگا۔ اس زبان میں درخواست لینے والا عملہ ہوگا۔ حکومت کے تمام اعلانات و اشتہارات مذکورہ زبان میں بھی جاری کیے جائیں گے۔ اس زبان کی تعلیم کا بند وبست کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ جب دہلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا تو ضروری ہو گیا کہ یہ تمام کام کیے جائیں۔ لیکن کیا ایسا ہوا او رکیا تمام سرکاری کام واقعی [...]

مہندر سنگھ بیدی سحرؔ

مہندر سنگھ بیدی سحرؔ گلشنِ صدق و صفا کا لالۂ رنگیں حسینؑ شمع عالم، مشعلِ دنیا، چراغِ دیں حسینؑ سر سے پا تک سرخیٔ افسانۂ خونیں حسینؑ جس پہ شاہوں کی خوشی قربان وہ غمگیں حسینؑ مطلع نور مہ و پروین ہے پیشانی تری باج لیتی ہے ہر اک مذہب سے قربانی تری جادۂ عالم میں ہے رہبر ترا نقشِ قدم سایۂ دامن ہے تیرا پرورش گاہِ ارم بادۂ ہستی کا ہے تعبیر تجھ سے کیف و کم اُٹھ نہیں سکتا تیرے آگے سرِ لوح و قلم تو نے بخشی ہے وہ رفعت ایک مشتِ خاک کو جو بایں سر کردگی حاصل نہیں افلاک کو   Courtesy: Bazme Qalam

A Tribute to Hazrat Imam Hussain ( With French version)

Oh ! the son of Prophet, the saviour of men, The sultry noon of the horrid summer, When long back this day, your pious blood, Fell to the soil in a ruthless way, Haunts me like a frightening dream. The arrow, so cruel that pierced the throat, Of a thirsty babe who could not shriek, The devilish hands that severed the head, From your body, the holiest then, Make me tearful night and day. One could foresee through your pains, We would learn a moral so high, In chain would spring the countless heads, To follow your spirit in the righteous cause, Alas! Craven we are , could not do. We lament your sorrow and cry so hoarse, You might think, a creed has come, To hold your banner in the benighted world, To trim the evils as you did, Alas! We are a smirch on your name. Our talks are bold, our hearts are weak, Our tongues are sharp, our minds are meek, Our hands and legs are shivery all, Make us man and give us a call, Our hopes are shimmering in your grave. Pangs of conscience ask me oft, Why the flame of virtue is soft? Why the sun of evil has its reign,? Why our blood is cold when vice is hot.? Are we on the brink of death,? Summon the courage, you all the men ! Tread on the path of martyrs, the great, Else, the Last Day will see your awful fate, Your abode will be the dreaded Hell, With your bones and flesh as its food. ****************************** Dr. Mustafa Kamal Sherwani,LL.D. Sherwani Nagar, Sitapur Road Lucknow, U.P. India sherwanimk@yahoo.com +91-9919777909 **************** French Version by Mrs Sajida Samia ( [...]

Iqbaal Quraan and Science

Courtesy: Bazme Qalam  

زلزلۂ آفرینش

سید شاہ نعیم الدین نعیمی (شکاگو) زلزلۂ آفرینشپستی کا تصو ر تھا نہ کوئ بلندی تھی                گردش میں زمانہ تھا نہ وقت کی ہستی تھی غرقاب اندھیرے میں تھے ماہ و مہر سارے     تھے چاہ عدم میں سب سمٹے ہوے سیارے شاید ابھی جنت تھی تزئن و سجاوٹ میں               مصروف فرشتے تھے دوزخ کی بناوٹ میں تھی دہر کے افسوں کی تشکیل کی تیاری              افلاک کی وسعت پر تھا عہد ازل طاری ایسے میں خیال آیا اک بت کے بنانے کا            آدم کے حوالہ سے دنیا کو سجانے کا ہاتھوں سے فرشتوں کے گندھوائ گئ مٹی                پھر افضل و کامل وہ کہلائ گئ مٹی اک گوؤج تحکم کی آفاق میں لہرائ                  ہر ایک کا سر خم ہو بت کی ہو پذیرائ سجدوں کی شہادت سے معبود بنا آدم                تھا اذنِ خدا سے اب اک مثلِ خدا آدام بھونچال سا لیکن اک آفاق میں تھرایا              خاموش سے پانی میں طوفاں نے غضب ڈھایا اک بم سا پھٹا اس دم اک حسِّ انا ابھری          میں افضل و اعلیٰ ہوں ‘ میں نار ہوں یہ خاکی کیوں اسکے قدم چوموں جھکتا ہوں ترے آگے    کھنکے ہوے گارے کی مٹی ہے مرے آگے دستور جہاں بانی کا پہلا نفی تھا وہ                        اک کوہِ گراں جیسا اظہار قوی تھا وہ اس عہد کے آئں میں انکار نہ تھا کوئ [...]

اردو، یوم اردو اور اقبال ڈے

اردو، یوم اردو اور اقبال ڈے سہیل انجم نو نومبر شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے۔ اس دن اقبال کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اس دن کو اب یوم اردو بھی کہا جانے لگا ہے۔ یعنی 9نومبر جہاں اقبال کی شاعری اور ان کے فکر وفن پر پروگراموں کے انعقاد سے عبارت ہے وہیں وہ اردو کے حوالے سے اہل اردو کے رویوں اور اردو سے ان کی محبت کے دعوے کے احتساب کا بھی دن ہے۔ اس دن جہاں ہم اقبال کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلق سے بھی گفتگو کرتے ہیں وہیں ہمیں یہ جاننے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا ہے کہ ہم، جو اردو سے محبت کے دعوے دار ہیں اردو سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ہمارے دعوے میں کتنی صداقت ہے۔  اگر ہم اردو زبان کی تاریخ پر نظر ڈالیں اور گیسوئے اردو کو سنوارنے والی صفوں کو دیکھیں تو پائیں گے کہ یہ زبان کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کی زبان نہیں ہے۔ اس پر کسی ایک فرقے یا طبقے کی اجارہ داری نہیں ہے۔ یہ کسی ایک خطے کی زبان نہیں ہے۔ یہ پورے ملک کی زبان ہے اور تمام فرقوں اور طبقوں کی زبان ہے۔ یہ زبان ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی زبان ہے جسے گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ زبان بھی کہا جاتا ہے۔ ہندوستان کی بیشتر تہذیبوں اور ثقافتوں کا علمی ورثہ اس زبان میں موجود ہے۔ ا س کی پرورش و پرداخت کسی ایک فرقے یا طبقے یا مذہب کے ماننے والوں نے نہیں کی بلکہ اس میں تمام ہندوستانیوں کی شرکت رہی ہے۔ لیکن ایک ایسا خاص طبقہ ہمیشہ موجود رہا ہے جو اس کی [...]

نعت : حفیظ میرٹھی

www.bhatkaltv.com نعت             :  حفیظ میرٹھی اردو میں جب بھی بامقصد تعمیری اور اعلی قدروں پر مبنی شاعری ثبت کی جائے گی تو حفیظ میرٹھی کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہے گی ، حفیظ صاحب کے والہانہ اور دردبھرے انداز میں ایک نعت پیش خدمت ہے ۔ ہماری ویب سائٹ پر اس کی ویڈیو بھی دستیاب ہے ۔ اسی سے نوع انساں پھر ہدایت کی سوالی ہے وہ ہادی جس نے دنیا ، دین کے سانچے میں ڈھالی ہے امید و بیم کی تصویر بن کر رہ گیا ہوں میں نظر سوئے فلک ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے ادب سے میں یہ موتی ان کے قدموں میں سجادوں گا مری آنکھیں تو پر ہیں کیا ہوا گر ہاتھ خالی ہے کسی بھی قیصر و کسری کو خاطر میں نہیں لاتے محمد کے غلاموں کی ادا سب سے نرالی ہے مٹانا چاہتے ہیں آپ کے قانون کو شاہا کچھ ایسے لوگ جن کا شیوہ حق کی پائمالی ہے اندھیرے خود پریشاں ہیں ، یہ میر ا کیا بگاڑیں گے کہ میں نے شمع ایماں خانہ دل میں جلا لی ہے حفیظ اب ہم نبی کے ہجر میں آنسو بہائیں گے نکلنے کی ہماری حسرتوں نے راہ پالی ہے ویڈیو کے لئے کلک کریں http://www.youtube.com/watch?v=nwvLbnUwpD0&feature=share&list=PLjseW6sQdLXFuzlRc4XtSur3l83L8C9xX بھٹکل کے ایک طالب علم کی آواز میں یہی نعت http://www.youtube.com/watch?v=PNWB6KkRXQ0&feature=share&list=PLjseW6sQdLXFuzlRc4XtSur3l83L8C9xX  Abdul Mateen Muniri Director  www.urduaudio.com www.bhatkaltv.com Skype: ammuniri

IN PRAISE OF ALLAH

IN PRAISE OF ALLAH By Tanvir Phool   Translated by Ahmed Kamal Khusro   Heart’s lyre every moment resounds with the refrain ‘Allah is the Only One’ On the heart’s book, the soul has written ‘Allah is the Only One.’ The cry of ‘A Last’ [Am I not your Lord] , heard in the beginning by the ear The tongue chanted without delay, ‘Yes, Yes, Allah is the Only one.’ When the heart spoke of his Oneness, my belief became strong Just as Bilal lay on scorching sand but said, ‘Allah is the Only One’ Listen from the pores of your heart, all secrets will be revealed That the universe is tongued with the anthem ‘Allah is the Only One’. His remembrance alone relieves the affliction of my heart Surely, the soul’s comfort, the only anodyne is ‘Allah is the Only One.’ He is the Lord of everyone; He is free of any partner, Spread in the world and say to all ‘Allah is the Only One’.                             When Yusuf in jail exhorted all ‘Allah is the Only One’ His companions replied in unison ‘Allah is the Only One’. When I leave this world, let your favour be with me, You are immanent in every fibre, All Pride is Yours, ‘Allah is the Only one’ Let my lips chant Your name and of Your Prophet [saws] Let my mouth repeatedly utter ‘Allah is the Only One’.